بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس سے کہو کہ وہ اسے واپس لے جائے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے (یعنی اس کی حیض ختم ہو جائے) پھر اس کی حیض ہو جائے، پھر وہ پاک ہو جائے۔ اگر وہ چاہے تو اس سے جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے اسے طلاق دے سکتا ہے اور اگر چاہے تو اسے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔

کہہ دو کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے

پھر اگر وہ روگردانی کریں تو کہہ دو کہ میرے لیے اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ (9:129) Yet, if they should turn away, then tell them: “Allah is sufficient for me; there is no god but He. In Him I have put my trust. He is the Lord of the Mighty Throne.”

میں ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہوں

شعیب نے کہا اے میری قوم! آپ کیا سوچتے ہیں؟ اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر قائم ہوں، اور اس نے مجھے اپنی طرف سے ایک خوبصورت رزق بھی دیا ہے [98] - (کیا میں اس کی ناشکری کروں اور آپ کی خطا اور گناہ میں شریک ہوں؟) اور نہ ہی میں اس کے خلاف کام کرنا چاہتا ہوں تمہیں نصیحت کرنا۔[99] میں جہاں تک ہو سکے چیزوں کو درست کرنے کے علاوہ کچھ نہیں چاہتا ہوں۔ میری مدد صرف اللہ کے ساتھ ہے۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور میں ہمیشہ اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔

کوئی مصیبت اللہ کے حکم بغیر نہیں آتی

کوئی بھی مصیبت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں آتی۔ اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اللہ اس کے دل کو سیدھے راستے پر چلا دیتا ہے۔ اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔ Misfortunes can only happen with God’s permission––He will guide the heart of anyone who believes in Him: God knows all things– اس شخص کا دل جو سچے دل سے جانتا اور مانتا ہے کہ سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ کائنات کے مالک اور حاکم میں اکیلا ہے۔ کہ اس کے حکم سے ہی کوئی مصیبت آتی ہے اور اس کے حکم سے ہی اسے ٹالا جاسکتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر و استقامت اور رضائے الٰہی میں راضی ہونے کے فضل سے نوازا جاتا ہے اور اسے عزم و ہمت کے ساتھ ہر صورت حال کا مقابلہ کرنے کی طاقت عطا ہوتی ہے۔ سخت ترین حالات میں بھی اللہ کے فضل کی امید کی شمع اس کے راستے کو روشن کرتی ہے۔ کوئی مصیبت خواہ کتنی ہی سخت اور آزمائشی ہو اسے مایوس نہیں کر سکتی کہ وہ راہِ راست سے ہٹ جائے یا باطل کی طرف جھک جائے، یا اللہ کے سوا دوسروں کو اپنی شکایت کے ازالے کے لیے پکارے۔ اس طرح ہر مصیبت اس کے لیے خیر و عافیت کے نئے دروازے کھول دیتی ہے اور کوئی مصیبت اس کے لیے مصیبت نہیں رہتی۔

زندگی سے اضطراب کیسے ختم کریں

اضطراب تو ایمان ہے۔اگر اپ کے دل میں یہ خیال رہتا ہے کہ مجھے اپنے پروردگار کے آُگے پیش ہونا ہے۔ معلوم نہیں وہاں کامیابی ہوگی ،معلوم نہیں وہاں ناکامہ ہوگی۔ اس اضطراب سے ایمان کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدُدا کے ساتھ ایک زندہ تعلق ہے۔ اُدمی غفلت میں نہیں سو رہا۔ اس کو یہ خیال رہتا ہے اور ہر لحاظ کہ ایک دن اپنے رب سے ملنے والا ہوں۔ اور یہ ملاقات محاسبے کی ملاقات ہوگی مجھے س دنیا میں جس امتحان کے لئے بھجا گیا تھا میں وہاں سے کامیاب ہو کر ایا ہوں یا ناکام۔۔ اس اضطراب کو کبھی ختم نہیں کرنا چاہیے۔ اضطراب کو رب کی یاد سے صحیح رخ پر رکھنا اور یہ جو پانچ وقت کی نماز فرض کی گئی ہے یہ ہمیں بار بار اپنے رب کی یاد دلاتی ہے۔ جب اضطراب پیدا ہع رب کو یاد کریں ،تسبیح کریں ،دعا کریں۔

اور تمہارا رب کبھی بھولنے والا نہیں ہے

فرشتے کہیں گے ’’(اے محمد!) ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اترتے۔ جو کچھ ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب اسی کا ہے۔ تیرا رب بھولنے والا نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ سورت بڑی تاخیر کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ بہت مشکل وقت سے گزر رہے تھے اور ہر وقت ان کی رہنمائی اور تسلی کے لیے کسی وحی کی توقع رکھتے تھے۔ جب فرشتہ جبرائیل دوسرے فرشتوں کے ساتھ اس وحی کے ساتھ آیا تو اس نے سب سے پہلے پیغام کا وہ حصہ پہنچا دیا جس کی فوری ضرورت تھی۔ پھر آگے بڑھنے سے پہلے آپ نے یہ الفاظ اللہ کے حکم سے تاخیر کی وضاحت اور اللہ کی طرف سے تسلی اور استقامت کی نصیحت کے لیے کہے۔ یہ تشریح نہ صرف عبارت کے الفاظ سے ہوتی ہے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض روایات سے بھی ثابت ہوتی ہے جنہیں ابن جریر، ابن کثیر اور روح المعانی کے مصنف نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔

منیٰ میں خدا کو یاد کرو

فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (Al-Baqara : 200) ‎پھر جب حج کے تمام ارکان پورے کرچکو تو (منیٰ میں) خدا کو یاد کرو۔ جس طرح اپنے باپ دادا کو یاد کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بعض لوگ ایسے ہیں جو (خدا سے) التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو (جو دنیا ہے) دنیا ہی میں عنایت کر ایسے لوگوں کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ‎وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (Al-Baqara : 201) ‎اور بعضے ایسے ہیں کہ دعا کرتے ہیں کہ پروردگار ہم کو دنیا میں بھی نعمت عطا فرما اور آخرت میں بھی نعمت بخشیو اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھیو ‎أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (Al-Baqara : 202) ‎یہی لوگ ہیں جن کے لئے ان کے کاموں کا حصہ (یعنی اجر نیک تیار) ہے اور خدا جلد حساب لینے والا (اور جلد اجر دینے والا) ہے ‎وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ (Al-Baqara : 203) ‎اور (قیام منیٰ کے) دنوں میں (جو) گنتی کے (دن میں) خدا کو یاد کرو۔ اگر کوئی جلدی کرے (اور) دو ہی دن میں (چل دے) تو اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ اور جو بعد تک ٹھہرا رہے اس پر بھی کچھ گناہ نہیں۔ یہ باتیں اس شخص کے لئے ہیں جو (خدا سے) ڈرے اور تم لوگ خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اس کے پاس جمع کئے جاؤ گے

یہ سورہ آپ کی زندگی بدل سکتی ہے

الٓمٓ الم تَنزِيلُ ٱلْكِتَٰبِ لَا رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ بلاشبہ اس کتاب کا اتارنا تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ بَلْ هُوَ ٱلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَّآ أَتَىٰهُم مِّن نَّذِيرٍ مِّن قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے۔ (نہیں نہیں) بلکہ یہ تیرے رب تعالیٰ کی طرف سے حق ہے تاکہ آپ انہیں ڈرائیں جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے واﻻ نہیں آیا۔ تاکہ وه راه راست پر آجائیں ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ مَا لَكُم مِّن دُونِهِۦ مِن وَلِىٍّ وَلَا شَفِيعٍ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ اللہ تعالیٰ وه ہے جس نے آسمان وزمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں پیدا کر دیا پھر عرش پر قائم ہوا، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی مددگار اور سفارشی نہیں۔ کیا پھر بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرتے يُدَبِّرُ ٱلْأَمْرَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ إِلَى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِى يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُۥٓ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے ذَٰلِكَ عَٰلِمُ ٱلْغَيْبِ وَٱلشَّهَٰدَةِ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان ٱلَّذِىٓ أَحْسَنَ كُلَّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ وَبَدَأَ خَلْقَ ٱلْإِنسَٰنِ مِن طِينٍ جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُۥ مِن سُلَٰلَةٍ مِّن مَّآءٍ مَّهِينٍ پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی ثُمَّ سَوَّىٰهُ وَنَفَخَ فِيهِ مِن رُّوحِهِۦ وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو وَقَالُوٓا۟ أَءِذَا ضَلَلْنَا فِى ٱلْأَرْضِ أَءِنَّا لَفِى خَلْقٍ جَدِيدٍۭ بَلْ هُم بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ كَٰفِرُونَ انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں قُلْ يَتَوَفَّىٰكُم مَّلَكُ ٱلْمَوْتِ ٱلَّذِى وُكِّلَ بِكُمْ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ کہہ دیجئے! کہ تمہیں موت کا فرشتہ فوت کرے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے پھر تم سب اپنے پروردگار کی طرف لوٹائے جاؤ گے وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلْمُجْرِمُونَ نَاكِسُوا۟ رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَآ أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَٱرْجِعْنَا نَعْمَلْ صَٰلِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ a کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں وَلَوْ شِئْنَا لَءَاتَيْنَا كُلَّ نَفْسٍ هُدَىٰهَا وَلَٰكِنْ حَقَّ ٱلْقَوْلُ مِنِّى لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ أَجْمَعِينَ اگر ہم چاہتے تو ہر شخص کو ہدایت نصیب فرما دیتے، لیکن میری یہ بات بالکل حق ہو چکی ہے کہ میں ضرور ضرور جہنم کو انسانوں اور جنوں سے پر کردوں گا فَذُوقُوا۟ بِمَا نَسِيتُمْ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هَٰذَآ إِنَّا نَسِينَٰكُمْ وَذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ اب تم اپنے اس دن کی ملاقات کے فراموش کر دینے کا مزه چکھو، ہم نے بھی تمہیں بھلا دیا اور اپنے کیے ہوئے اعمال (کی شامت) سے ابدی عذاب کا مزه چکھو إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا۟ بِهَا خَرُّوا۟ سُجَّدًا وَسَبَّحُوا۟ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ہماری آیتوں پر وہی ایمان ﻻتے ہیں جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ أُخْفِىَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے أَفَمَن كَانَ مُؤْمِنًا كَمَن كَانَ فَاسِقًا لَّا يَسْتَوُۥنَ کیا وه جو مومن ہو مثل اس کے ہے جو فاسق ہو؟ یہ برابر نہیں ہو سکتے أَمَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمْ جَنَّٰتُ ٱلْمَأْوَىٰ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک اعمال بھی کیے ان کے لئے ہمیشگی والی جنتیں ہیں، مہمانداری ہے ان کے اعمال کے بدلے جو وه کرتے تھے وَأَمَّا ٱلَّذِينَ فَسَقُوا۟ فَمَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ كُلَّمَآ أَرَادُوٓا۟ أَن يَخْرُجُوا۟ مِنْهَآ أُعِيدُوا۟ فِيهَا وَقِيلَ لَهُمْ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ لیکن جن لوگوں نے حکم عدولی کی ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی اس سے باہر نکلنا چاہیں گے اسی میں لوٹا دیئے جائیں گے۔ اور کہہ دیا جائے گا کہ اپنے جھٹلانے کے بدلے آگ کا عذاب چکھو وَلَنُذِيقَنَّهُم مِّنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَدْنَىٰ دُونَ ٱلْعَذَابِ ٱلْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وه لوٹ آئیں وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن ذُكِّرَ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَآ إِنَّا مِنَ ٱلْمُجْرِمِينَ مُنتَقِمُونَ اس سے بڑھ کر ﻇالم کون ہے جسے اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے وعﻆ کیا گیا پھر بھی اس نے ان سے منھ پھیر لیا، (یقین مانو) کہ ہم بھی گناه گاروں سے انتقام لینے والے ہیں وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسَى ٱلْكِتَٰبَ فَلَا تَكُن فِى مِرْيَةٍ مِّن لِّقَآئِهِۦ وَجَعَلْنَٰهُ هُدًى لِّبَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، پس آپ کو ہرگز اس کی ملاقات میں شک نہ کرنا چاہئے اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کی ہدایت کا ذریعہ بنایا وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا۟ وَكَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يُوقِنُونَ اور جب ان لوگوں نے صبر کیا تو ہم نے ان میں سے ایسے پیشوا بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کرتے تھے، اور وه ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے إِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ فِيمَا كَانُوا۟ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ آپ کا رب ان (سب) کے درمیان ان (تمام) باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن کرے گا جن میں وه اختلاف کر رہے ہیں أَوَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا مِن قَبْلِهِم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَٰكِنِهِمْ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ أَفَلَا يَسْمَعُونَ کیا اس بات نے بھی انہیں ہدایت نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے مکانوں میں یہ چل پھر رہے ہیں۔ اس میں تو (بڑی) بڑی نشانیاں ہیں۔ کیا پھر بھی یہ نہیں سنتے؟ أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا نَسُوقُ ٱلْمَآءَ إِلَى ٱلْأَرْضِ ٱلْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهِۦ زَرْعًا تَأْكُلُ مِنْهُ أَنْعَٰمُهُمْ وَأَنفُسُهُمْ أَفَلَا يُبْصِرُونَ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْفَتْحُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) قُلْ يَوْمَ ٱلْفَتْحِ لَا يَنفَعُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ إِيمَٰنُهُمْ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَٱنتَظِرْ إِنَّهُم مُّنتَظِرُونَ اب آپ ان کا خیال چھوڑ دیں اور منتظر رہیں۔ یہ بھی منتظر ہیں

In the grave no more than one evening or one morning

كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا On the Day they see it, they will feel as though they had stayed (in the grave) no more than one evening or one morning. جس دن وہ اسے دیکھیں گے تو محسوس کریں گے کہ گویا وہ (قبر میں) ایک شام یا ایک صبح سے زیادہ ٹھہرے تھے۔ 53 of Surah Younus. 56 of Surah Bani Israil . 80 of Surah TaHa . 101 of Surah Al-Mominoon. 81, 82 of Surah Ar-Room