چار چیزیں زندگی میں کبھی نہ چھوڑیں
1-شکر کرنا نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ (اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا)
(سورة إبراہيم :آیت 7)
2-اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ (تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا)
(سورة البقرة: آیت 152)
3-دعا کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
أَدْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ (تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا)
(سورة غافر:آیت 60)
4-استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْن (اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں)
(سورة الأنفال :آیت 33)
نیک لوگوں کے گزر جانے کا بیان
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ أَوِ التَّمْرِ، لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: يُقَالُ حُفَالَةٌ وَحُثَالَةٌ.
مجھ سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے مرداس اسلمی ؓ نے بیان کیا کہ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہوگی۔ امام بخاری (رح) نے کہا حفالة اور حثالة. دونوں کے ایک معنی ہیں۔
Narrated Mirdas Al-Aslami (RA) :
The Prophet ﷺ said, "The righteous (pious people will depart (die) in succession one after the other, and there will remain (on the earth) useless people like the useless husk of barley seeds or bad dates, and Allah will not
مال کو تباہ کرنا یعنی بے جا اسراف منع ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ، فَقَالَ: إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عمر ؓ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ :نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا کہ خریدو فروخت میں مجھے دھوکا دے دیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب خریدو فروخت کیا کرو، تو کہہ دیا کر کہ کوئی دھوکا نہ ہو۔ چناچہ پھر وہ شخص اسی طرح کہا کرتا تھا۔
Narrated Ibn Umar (RA):
A man came to the Prophet ﷺ and said, "I am often betrayed in bargaining." The Prophet ﷺ advised him, "When you buy something, say (to the seller), No deception." The man used to say so afterwards.
ادائیگی میں مالدار کی طرف سے ٹال مٹول کرنا ظلم ہے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَخِي وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ، وہب بن منبہ کے بھائی نے، انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، مالدار کی طرف سے (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
Narrated Abu Hurairah (RA):
Allahs Apostle ﷺ said, "Procrastination (delay) in repaying debts by a wealthy person is injustice."
مردوں کو 5 چیزیں یاد رہتی ہیں
عورتوں کا مکر بہت بڑا ہے۔ القرآن
دو،تین،چار عورتوں سے نکاح کی اجازت ہے۔ القرآن
عورتوں کے عقل اور دین میں نقص ہے۔الحدیث
مرد عورتوں کے سربراہ اور نگران ہیں۔ القرآن
بہٹے کا وراثت میں بیٹی سے دوگنا حصہ ہے۔ القرآن
استغفار کے فوائد
(¹) گناہ معاف ہونگے ۔ (سورة نوح : ¹⁰)
(²) بارش ہوگی ۔ (سورة نوح : ¹¹)
(³) اولاد نصیب ہوگی (سورة نوح :¹²)
(⁴) مال ملے گا (سورة نوح :¹²)
(⁵) باغات ملیں گے (سورة نوح :¹²)
(⁶) نہریں جاری ہونگی (سورة نوح : ¹²)
(⁷) خوش حالی والی زندگی نصیب ہوگی (سورة ہود : ³)
(⁸) طاقت اور قوت ملے گی (سورة ہود : ⁵²)
(⁹) مبارکباد ہے اس شخص کے لیے جس کے نامہ اعمال میں استغفار زیادہ ہو ۔ (ابن ماجہ )
(¹⁰) جو پابندی سے استغفار کرے گا تو اللہ اسے ہر غم اور ہر تکلیف سے نجات دے گا ، ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرماۓ گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا ، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہوگا
جنوں کا بیان اور ان کو ثواب اور عذاب کا ہونا
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ لَهُ: إِنِّي أَرَاك تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلَاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لَا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ، وَلَا إِنْسٌ وَلَا شَيْءٌ إِلَّا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ انصاری نے اور انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ ان سے ابو سعید خدری ؓ نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور (وقت ہونے پر) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو، کیونکہ مؤذن کی آواز اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ ابوسعید ؓ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی۔
Narrated Abdur-Rahman bin Abdullah bin Abdur-Rahman bin Abi Sasaa Ansari (RA):
That Abu Said Al-Khudri(RA) said to his father. "I see you are fond of sheep and the desert, so when you want to pronounce the Adhan, raise your voice with it for whoever will hear the Adhan whether a human being, or a Jinn, or anything else, will bear witness, in favor on the Day of Resurrection." Abu Said added, "I have heard this from Allahs Apostle ﷺ ."
سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنا
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«تُعْرَضُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَأُحِبُّ أَنْ يُعْرَضَ عَمَلِي وَأَنَا صَائِمٌ»
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’پیر اور جمعرات کے روز اعمال پیش کیے جاتے ہیں ، لہذا میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں ۔‘‘
( رواہ الترمذی )
صبح سویرے سونے کا نقصان
رسول اللهﷺ نے فرمایا کہ:-
"ائے اللہ میری امت کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما"
صحیح ابی داؤد:(2606)
_امام ابن القیم(751ھ) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:-
"اسلاف کرام رحمہم اللہ کے نزدیک فجر کے بعد اور طلوع فجر(اشراق کا وقت) کے درمیان سونا مکروہ عمل تھا کیوں کہ یہ بڑا ہی مفید اور غنیمت والا وقت ہے، یہ وقت رزق کے نزول اور برکتوں کے اترنے کا وقت ہوتا ہے"
مدارج السالکین:(1/457)
اللہ تعالٰی ہمیں فجر کے بعد کے وقت کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے بھر پور فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین
من جانب: اقوال السلف والعلماء وانسداد البدع والمنكر.