الله وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں

اللهُ لآَ اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ لاَ تَاْخُذُهُ سِنَةً وَّلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلاَّ بِاِذْنِهِ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِهِ اِلاَّ بِمَا شَآ َٕ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلاَ یَوُدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ) الله (وہ ہے کہ )اس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، ہر چیز کو قائم رکھنے والا ہے، نہ اسے اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند، اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے، کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے، وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین کو سمائے ہوئے ہے اور اسے ان دونوں کی حفاظت نہیں تھکاتی اور وہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے

اے الله میرے کانوں میں مجھے عافیت دے

اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَدَنِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ سَمْعِیْ، اَللّٰھُمَّ عَافِنِیْ فِیْ بَصَرِیْ لَا اِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ،لَا اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ اے الله! میرے بدن میں مجھے عافیت دے ،اے الله! میرے کانوں میں مجھے عافیت دے، اے الله! میری آنکھوں میں مجھے عافیت دے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے الله!یقینا میں تیری پناہ لیتا ہوں کفر اورفقر وفاقہ سے ،اے الله !بے شک میں تیری پناہ لیتا ہوں عذابِ قبر سے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے

دعا كى طاقت یا الہٰی! ہمیں اپنا گھر عطا کر جس کے آگے ایک نہر ہو

یہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض شہر کا واقعہ ہے۔ ایک نیک خاتون رمضان المبارک میں ہر روز افطار سے پہلے تمام بچوں کو اکٹھا کرتی اور ان سے کہتی کہ جو کچھ میں کہوں اور کروں، تم بھی وہی کہنا اور کرنا، پھر وہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی اور کہتیں "یا الہٰی! ہمیں اپنا گھر عطا کر جس کے آگے ایک نہر ہو." تمام بچے بھی ہاتھ اٹھاتے اور کہتے: "یا الہٰی! ہمیں اپنا گھر عطا کر جس کے آگے ایک نہر ہو...!" اس خاتون کا شوہر ہنستا اور کہتا، "اپنے گھر کی بات تو سمجھ آتی ہے، لیکن یہ گھر کے آگے نہر ہونے کا کیا مطلب؟ اس صحرائی علاقے میں نہر کہاں سے آئے گی؟" بیوی اسے جواباً کہتی: " آپ کو اس سے کیا غرض، یہ ہمارا اور اللّه تعالٰی کا معاملہ ہے، آپ بیچ میں مت آئیے، وہ رب تو کہتا ہے، مجھ سے جو مانگو، میں عطا کروں گا، ہم تو جو جی میں آئے گا، مانگیں گے، اور بار بار مانگیں گے..." غرض وہ اسی طرح بچوں کو اکھٹا کرتی اور خود بھی دعا کرتی اور بچوں سے بھی کرواتی۔ رمضان المبارک بیت گیا۔ ایک دن اس کے شوہر نے کہا: "اب بتاؤ، کہاں ہے تمہارا اپنا گھر، اور کہاں ہے وہ نہر...؟" خاتون نے بڑے یقین سے جواب دیا، " الله تعالیٰ ہمیں ہمارا گھر ضرور دے گا، وہ ہماری تمام مرادیں پوری کرے گا۔" اس سے اگلا واقعہ وہ خود بیان کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ، "میں شوال کے چھ روزے رکھ کر فارغ ہوئی تھی کہ ایک روز بڑا عجیب واقعہ پیش آیا. میرے شوہر عصر کی نماز پڑھ کر مسجد سے نکل رہے تھے کہ ریاض کے ایک امیر آدمی نے ان کا راستہ روکا، میرے شوہر انھیں جانتے تک نہ تھے اس آدمی نے انہیں سلام کیا اور کہا: "میرے پاس ایک گھر ہے، آدھے گھر میں تو میں اپنے والد کے ساتھ رہتا ہوں، مگر گھر کا دوسرا نصف حصہ خالی پڑا ہے۔ اللّه تعالیٰ نے مجھے اور میری اولاد کو اپنے فضل و کرم سے بہت نوازا ہے، ہمیں اس آدھے گھر کی ضرورت نہیں۔ آج اس ارادے سے گھر سے نکلا تھا کہ نماز عصر کے بعد مسجد سے نکلنے والے پہلے آدمی کو میں وہ آدھا گھر ہدیۃً دے دوں گا، یوں آپ سے ملاقات ہوئی تو گزارش ہے کہ میرا آدھا گھر ھدیتہً قبول فرما لیں...!!" بلا قیمت مکان لیتے ہوئے ہمیں تردد ہوا، وہ صاحب کہنے لگے " اگر آپ کی تسلی قیمت دئیے بغیر نہیں ہوتی تو جتنی رقم آپ آسانی سے دے سکتے ہیں، دے دیجئے.!!" خیر ہم نے کچھ اپنے پاس اور کچھ اِدھر اُدھر سے جو رقم اکٹھی کی وہ کم و بیش 8 ہزار ریال بن گئے، وہ رقم ہم نے اس آدمی کے حوالے کر دی، اب ہم اس آدھے مکان کے مالک بن گئے تھے۔ مکان ریاض شہر کے ایک ماڈرن علاقے میں واقع تھا، سچ ہے کہ جو انسان سچے دل سے اللّه تعالٰی کو پکارتا ہے، اللّه تعالٰی بھی اس کی پُکار ضرور سنتا ہے۔ لیکن! ایک بات نے مجھے پریشان کر رکھا تھا، میں نے اللّه سے جو گھر مانگا تھا اس کے آگے نہر تھی، مکان تو مل گیا، پر اس کے آگے نہر نہیں تھی۔ میں نے ایک عالم دین سے پوچھا کہ " الله تعالٰی تو فرماتا ہے کہ مجھ سے جو مانگو میں تمہیں عطا کروں گا، میں نے الله سے نہر کنارے گھر مانگا تھا، گھر تو مل گیا، لیکن نہر نہیں ملی...!!" اُن عالمِ دین کو میری دُعا اور میرے ایقانِ قبولیت پر بڑی حیرت ہوئی، انہوں نے دریافت کیا، " اس وقت آپ کے گھر کے سامنے کیا ہے؟؟" میں نے کہا، " اس وقت ہمارے گھر کے سامنے ایک خوبصورت مسجد ہے!!" عالمِ دین مسکرائے اور فرمایا، "یہ نہر ہی تو ہے!!" پھر انہوں نے میرے سامنے یہ حدیثِ مبارکہ بیان کی کہ!! حدیث میں نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی سے فرمایا کہ، "آدمی کا گھر نہر کنارے ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا اس کے بدن پر میل کچیل رہے گا؟" صحابہ کرام رضی اللّٰه عنہما نے جواب دیا، "نہیں یا رسول الله ، اس کے بدن پر میل کچیل باقی نہیں رہے گا۔" فرمایا، " یہی حال پانچ نمازوں کا ہے، ان کے ذریعہ اللّه تعالٰی گناہوں کو مٹا ڈالتا ہے...!" میری آنکھوں سے خوشی اور تشکر کے آنسو رواں تھے، بے شک میرے رب نے نہر کے سامنے گھر عطا کر دیا تھا...!!!

آزمائش سے حفاظت کی دعا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرامی ہے: ’’ جو شخص کسی مصیبت زدہ آدمی کو دیکھ کر درج ذیل دعا پڑھے تو وہ اس آزمائش سے محفوظ رہتا ہے: ﴿اَلْحَمْدُلِلّٰہ الَّذِیْ عَافَانِیْ مِمَّاابْتَلاَکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِیْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیْلاً﴾ ’’تمام تعریفیں اس اللہ کیلئے ہیں جس نے مجھے اس چیز سے عافیت دی جس میں تجھے مبتلا کیااور اس نے اپنے پیدا کئے ہوئے بہت سے لوگوں پر مجھے فضیلت بخشی۔‘‘ [ترمذی:حسن] اورارشاد باری ہے: ﴿فَاذْکُرُوْا آلَائَ اللّٰہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ﴾[الاعراف:۶۹] ’’ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کیا کرو تاکہ تم کامیابی پا جاؤ۔‘‘

مصیبت کے وقت دعا کرنے کا بیان

اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ کلمات سکھائے کہ میں سخت تکلیف کے وقت پڑھا کروں، (وہ کلمات یہ ہیں) «الله الله ربي لا أشرك به شيئا» ”اللہ، اللہ ہی میرا رب ہے میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتی۔‏‏‏‏“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3882] اردو حاشہ: فوائد و مسائل: پریشانی کے موقع پر الفاظ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ کی رحمت سے اُمید رکھتا ہوں۔ کہ وہی میری پریشانی دور کرے گا۔ شرک عام طور پر پریشانی کے موقع پر ہی کیا جاتا ہے۔ کہ اللہ کے بندوں سے مشکلات کے حل اور پریشانی دور کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ اور تصور کیا جاتا ہے کہ فوت شدہ بزرگ نذرانے لے کر ہماری حاجتیں پوری کردیں گے۔ لیکن ایک توحید پرست کی توحید کی شان بھی ایسے موقع پر ہی ظاہر ہوتی ہے۔ جب وہ سب کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کے آگےاپنی مصیبت اور تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔ اور اسی سے فریاد رسی کی امید رکھتا ہے۔

اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَااِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ

اَللّٰھُمَّ أَنْتَ رَبِّیْ لَااِلٰهَ اِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَأَنَا عَبْدُكَ وَاَنَا عَلٰی عَھْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَعُوْذُبِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْئُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَیَّ وَ أَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ اے الله! تو ہی میرا رب ہے،تیرے سوا کوئی معبود نہیں،تو نے مجھے پید اکیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں،میں تیری پناہ لیتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی،میں اپنے اوپر تیری عطا کردہ نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوںاور اپنے گناہ کااعتراف کرتا ہوں،پس مجھے بخش دے،یقینا تیرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا

فرشتوں کا بیان

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمَلَائِكَةُ يَتَعَاقَبُونَ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُونَ:‏‏‏‏ تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ يُصَلُّونَ. ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ فرشتے آگے پیچھے زمین پر آتے جاتے رہتے ہیں، کچھ فرشتے رات کے ہیں اور کچھ دن کے اور یہ سب فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوجاتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو تمہارے یہاں رات میں رہے۔ اللہ کے حضور میں جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے .... حالانکہ وہ سب سے زیادہ جاننے والا ہے .... کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا، وہ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ جب ہم نے انہیں چھوڑا تو وہ (فجر کی) نماز پڑھ رہے تھے۔ اور اسی طرح جب ہم ان کے یہاں گئے تھے، جب بھی وہ (عصر) کی نماز پڑھ رہے تھے۔ Narrated Abu Hurairah (RA): The Prophet ﷺ said, "Angels keep on descending from and ascending to the Heaven in turn, some at night and some by daytime, and all of them assemble together at the time of the Fajr and Asr prayers. Then those who have stayed with you over-night, ascent unto Allah Who asks them, and He knows the answer better than they, "How have you left My slaves?" They reply, "We have left them praying as we found them praying." If anyone of you says "Amin" (during the Prayer at the end of the recitation of Surat-al-Faitiha), and the angels in Heaven say the same, and the two sayings coincide, all his past sins will be forgiven."

سورۃ الرحمن کی اس آیت کی تفسیر کہ سورج اور چاند دونوں حساب سے چلتے ہیں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْأَعْمَشِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي ذَرٍّ حِينَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ تَدْرِي:‏‏‏‏ أَيْنَ تَذْهَبُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ تَحْتَ الْعَرْشِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَيُوشِكُ أَنْ تَسْجُدَ فَلَا يُقْبَلَ مِنْهَا وَتَسْتَأْذِنَ فَلَا يُؤْذَنَ لَهَا، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لَهَا:‏‏‏‏ ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَغْرِبِهَا فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ سورة يس آية 38. ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے باپ یزید بن شریک نے اور ان سے ابوذر غفاری ؓ نے بیان کیا کہ : نبی کریم ﷺ نے جب سورج غروب ہوا تو ان سے پوچھا کہ تم کو معلوم ہے یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کی کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور عرش کے نیچے پہنچ کر پہلے سجدہ کرتا ہے۔ پھر (دوبارہ آنے) کی اجازت چاہتا ہے اور اسے اجازت دی جاتی ہے اور وہ دن بھی قریب ہے، جب یہ سجدہ کرے گا تو اس کا سجدہ قبول نہ ہوگا اور اجازت چاہے گا لیکن اجازت نہ ملے گی۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ جہاں سے آیا تھا وہیں واپس چلا جا۔ چناچہ اس دن وہ مغربی ہی سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان والشمس تجري لمستقر لها ذلک تقدير العزيز العليم (یٰسٓ: 38) میں اسی طرف اشارہ ہے۔ Narrated Abu Dhar (RA): The Prophet ﷺ asked me at sunset, "Do you know where the sun goes (at the time of sunset)?" I replied, "Allah and His Apostle ﷺ know better." He said, "It goes (i.e. travels) till it prostrates Itself underneath the Throne and takes the permission to rise again, and it is permitted and then (a time will come when) it will be about to prostrate itself but its prostration will not be accepted, and it will ask permission to go on its course but it will not be permitted, but it will be ordered to return whence it has come and so it will rise in the west. And that is the interpretation of the Statement of Allah: "And the sun Runs its fixed course For a term (decreed). that is The Decree of (Allah) The Exalted in Might, The All-Knowing." (36.38)

مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہیں

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُوشِكَ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الرَّجُلِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ. ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے، اور ان سے ابو سعید خدری ؓ نے بیان کیا کہ : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے۔ Narrated Abu Said Al-Khudri(RA): Allahs Apostle ﷺ said, "There will come a time when the best property of a man will be sheep which he will graze on the tops of mountains and the places where rain falls (i.e. pastures) escaping to protect his religion from afflictions."